خوش آمدید

اے الہی! میں تجھ سے دعا مانگتی ہوں عاجزی سے، سستی سے، بڑھاپے سے، بزدلی سے،بخل سے اور عذاب قبر سے۔
الہی! میری نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما، اس کو پاک کر،تو بہترین پاک کرنے والا ہے، تو ہی اس کا مالک ہے۔
الہیٰ! میں تیری پناہ مانگتی ہوں، ایسے دل سے جس میں خشوع نہ ہو۔ ایسی نفس سے جو سیر نہ ہو، ایسے علم سےجو نفع دے اور ایسی دعا سے مقبول نہ ہو۔
دعا ئے نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

Monday, January 9, 2012


Sunday, January 8, 2012

پرانے زمانہ اور آج کا دور



آج کل گانے سننا اور اسے گانا ایک عام سی بات بنتا جارہا ہے۔ کہتے ہیں کہ رونا اور گانا گانا سب کو ہی آتا ہے۔ کسی حد تک یہ ٹھیک بھی ہے لیکن اچھا گانا  گانا ایک فن ہے اور اچھاگانا سننا اچھے ذوق کی علامت ہے۔ 
آج کے گانوں کو سننا اچھا تو لگتا ہے لیکن یہ سب کچھ وقت کے یہ لئے ہوتا ہے، اس کے بعد بہت سنا گیا گانا ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔ لیکن پرانے گانے تو جتنی دفعہ سنتے جائو اسیر ہوتے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں نا!!! اولڈ از گولڈ۔۔۔۔تو بس یہئ معاملہ موسیقی کے زمرے میں بھی آتا ہے.
موسیقی اس صنف سا تعلق رکھتی ہے جو جتنی پرانی ہو اتنا ہی مزا دیتی ہے۔ اصل میں بات پرانے ہونے کی نہیں ہے، بات نرمی اور ڈھنگ کی ہے۔ پرانے زمانے کی موسیقی، یہاں تک کہ آج تک کی وہ موسیقی جس میں کوئی مقصد ہو یا جو بڑے نرم و نازک انداز سے مرتب کی گئی ہو، کامیاب ہوتی ہے اور وسیع پیمانے پر پسند کی جاتی ہے۔ اسی لیے آج بھی جواد احمد، ابرار الحق اور جنید جمشید جیسے فنکاروں کے وہ گانے جو موسیقی اور الفاظ میں رنگ بھردیتے ہیں، پسند کیے جاتے ہیں۔ 
گویا بات موسیقی اور الفاظ کے چنائو کی ہے۔ جیسی موسیقی ویسا ہی اثر اور اتنا ہی دیر پا تعلق۔

السلام علیکم
ہم آپ کو اس بلاگ میں خوش آمدید کہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ کو یہ وزٹ آپ کے لیے خوشی کا باعث ہوگا۔
دعاگو
صدف، کنول، کرن۔